جو زمانے والوں سے خوش دلی سے ملتا ہے ۔ غزل

جو زمانے والوں سے، خوش دلی سے ملتا ہے
ہم بلائیں تو اکثر، بے رخی سے ملتا ہے

بھول کر ہر اک شکوہ، زندگی نبھانی ہے
یہ سبق زمانے کو، دل لگی سے ملتا ہے

چھوڑ کر سبھی رشتے، انتظار کرنا ہے
یہ سفر اذیت کا، عاشقی سے ملتا ہے

زندگی اُسی کی ہے، مرضیاں اُسی کی ہیں
تم کو کیا خبر ہے کیا، بںدگی سے ملتا ہے

کعبہ خود چلا تھا جب، زاہدہ کی آمد پر
یہ مقام عاشق کو، عاجزی سے ملتا ہے

وقت تو لگے گا نا، منصفی نبھانے میں
ظلم جب غریبوں کو، رہبری سے ملتا ہے

ظلم کی روانی ہو، آہ تک نہیں کرنی
یہ سبق اطاعت کا، زندگی سے ملتا ہے

دل کی بات کہنی ہے، نام بھی نہیں لینا
یہ سخن زمانے کو، شاعری سے ملتا ہے

رسمیں بھی ضروری ہیں، فیصلے نبھانے ہیں
یہ جواب بالآخر، بے بسی سے ملتا ہے

اے حسَن زمانے کو، شوخیاں مبارک ہوں
ہم فدا ہیں اس پر جو، سادگی سے ملتا ہے

(جنید حسَن)

Leave a Comment

Your email address will not be published.