دل کی اقسام، علامات، اور علاج

ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً ؕ وَ اِنَّ مِنَ الۡحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنۡہُ الۡاَنۡہٰرُ ؕ وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخۡرُجُ مِنۡہُ الۡمَآءُ ؕ وَ اِنَّ مِنۡہَا لَمَا یَہۡبِطُ مِنۡ خَشۡیَۃِ اللّٰہِ ؕوَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ۔ پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں ، اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے ، اور بعض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گر گر پڑتے ہیں اور تم اللہ تعالٰی کو اپنے اعمال سے غافل نہ جانو ۔ (القرآن، سورۃ البقرہ 2، آیت 74)

انسان کے اندر جو دل اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے یہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے بارے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (جس کا مفہوم ہے) کہ جو شخص اس دل کی اصلاح کر لے اس کے باقی سارے معاملات درست ہو جاتے ہیں۔ اور جس کے دل میں فساد پیدا ہو جائے اس کے سارے معاملات بگڑ جاتے ہیں۔

“سن لو بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہوگا سارا بدن درست ہوگا اور جہاں بگڑ گیا سارا بدن بگڑ گیا۔ سن لو وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے.”
صحیح البخاری، 52

إِنَّ فِي ذَلِكَ لَذِكْرَى لِمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ۔ بیشک اس میں یقیناً انتباہ اور تذکّر ہے اس شخص کے لئے جو صاحبِ دل ہے (یعنی غفلت سے دوری اور قلبی بیداری رکھتا ہے)۔ (القرآن، سورۃ ق 50، آیت 37)

دل انسان کے باطن کا مرکز ہے۔ باطن کی طہارت اور اصلاح کا دارومدار دل کی اصلاح و درستگی سے مشروط ہے۔ قلب (دل) کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کچھ قرآنی آیات ملاحظہ کریں؛

وَ لٰکِنۡ یُّؤَاخِذُکُمۡ بِمَا کَسَبَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ۔ ہاں اس کی پکڑ اس چیز پر ہے جو تمہارے دلوں کا فعل ہو۔ (القرآن، سورۃ البقرہ 2، آیت 255)

فَوَیۡلٌ لِّلۡقٰسِیَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ مِّنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ۔
اور ہلاکی ہے ان پر جن کے دل یاد الٰہی سے ( اثر نہیں لیتے بلکہ ) سخت ہوگئے ہیں ۔ یہ لوگ صریح گمراہی میں ( مبتلا ) ہیں۔ ( القرآن، سورۃ الزمر، آیت 22)

دلوں کی اقسام

أَوَمَنْ كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِنْهَا۔
بھلا وہ شخص جو مُردہ (یعنی ایمان سے محروم) تھا پھر ہم نے اسے (ہدایت کی بدولت) زندہ کیا اور ہم نے اس کے لئے (ایمان و معرفت کا) نور پیدا فرما دیا (اب) وہ اس کے ذریعے (بقیہ) لوگوں میں (بھی روشنی پھیلانے کے لئے) چلتا ہے اس شخص کی مانند ہو سکتا ہے جس کا حال یہ ہو کہ (وہ جہالت اور گمراہی کے) اندھیروں میں (اس طرح گھِرا) پڑا ہے کہ اس سے نکل ہی نہیں سکتا۔
(القرآن، سورۃ الانعام 6، آیت 122)

خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ۔
اللہ نے (ان کے اپنے اِنتخاب کے نتیجے میں) ان کے دلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ہے۔
(القرآن، سورۃ البقرہ 2، آیت 7)

اَلَمۡ یَاۡنِ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ تَخۡشَعَ قُلُوۡبُہُمۡ لِذِکۡرِ اللّٰہِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الۡحَقِّ ۙ وَ لَا یَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلُ فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الۡاَمَدُ فَقَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ کَثِیۡرٌ مِّنۡہُمۡ فٰسِقُوۡنَ۔
کیا اب تک ایمان والوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر الٰہی سے اور جو حق اتر چکا ہے اس سے نرم ہوجائیں اور ان کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں ان سے پہلے کتاب دی گئی تھی پھر جب ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں بہت سے فاسق ہیں۔
(القرآن، سورۃ الحدید، آیت 16)

درج بالا آیات پر غور و فکر کرنے سے پتا چلتا ہے کہ دل (نیک اعمال کے باعث) زندہ بھی ہوتے اور نیک دل دوسرے لوگوں کی اصلاح کا باعث بنتے ہیں۔ جبکہ برے اعمال کے نتیجے میں کچھ دل مردہ ہو جاتے ہیں اور ان پر مہر لگا دی جاتی ہے۔

انسانی دل کی تین اقسام ہیں

  • قلبِ میت (مردہ دل)
  • قلبِ مریض (بیمار دل)
  • قلبِ حیّ (زندہ یا سلامتی والا دل)

قلبِ میت (مردہ دل)

ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالۡحِجَارَۃِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَۃً۔
پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔
(القرآن، سورۃ البقرہ 2، آیت 74)

فَبِمَا نَقۡضِہِمۡ مِّیۡثَاقَہُمۡ لَعَنّٰہُمۡ وَ جَعَلۡنَا قُلُوۡبَہُمۡ قٰسِیَۃً۔
پھر ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر اپنی لعنت نازل فرما دی اور ان کے دل سخت کر دیئے۔
(القرآن، سورۃ المائدہ 5، آیت 13)

وَ جَعَلۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ اَکِنَّۃً۔
اور ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال رکھا ہے۔
(القرآن، سورۃ الانعام 6، آیت 25)

وَ لٰکِنۡ قَسَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ
لیکن ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے خیال میں آراستہ کر دیا۔
(القرآن، سورۃ الانعام، آیت 43)

جو دل فقط دنیوی خواہشات، لذات، اور شہوات کا طلبگار ہو اور ہر وقت انہیں کے حصول کے لیے کوشاں رہے۔ اسے قلبِ میت (مردہ دل) کہتے ہیں۔

قلبِ حیّ (زندہ و سلامتی والا دل):

يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ۔ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ۔
جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ اولاد۔ مگر وہی شخص (نفع مند ہوگا) جو اللہ کی بارگاہ میں سلامتی والے بے عیب دل کے ساتھ حاضر ہوا۔ (القرآن، سورۃ الشعراء 26، آیات 88, 89)

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ۔
بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ تعالٰی کا ذکر آتا ہے تو ان کے قلوب ڈر جاتے ہیں۔
(القرآن، سورۃ الانفال، آیت 2)

جب دل ہر غیر کی خواہش، طلب، اور چاہت سے خالی ہو جاتا ہے، تب وہ اللہ کی ذات سے جڑ جاتا ہے۔ جو دل اللہ کی ذات سے جڑ جائے اسے قلبِ حیّ (زندہ یا سلامتی والا دل) کہتے ہیں۔ دل کے زندہ ہو جانے کو ہی معرفت کہتے ہیں۔

خواجہ عزیز الحسن مجذوب صاحب کا شعر ہے، وہ لکھتے ہیں؛

ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آجا اب تو خلوت ہو گئی
لاکھ جھڑکو اب نہیں پھرتا ہے دل
ہوگئی اب تو محبت ہو گئی

قلبِ مریض ( بیمار دل)

فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا۔
ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالٰی نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا۔
(القرآن، سورۃ البقرہ 2، آیت 10)

فَتَرَی الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ۔
آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے۔
(القرآن، سورۃ المائدہ 5، آیت 52)

کَلَّا بَلۡ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ۔
یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ ( چڑھ گیا ) ہے۔
(القرآن، سورۃ المطففین، آیت 14)

جو دل قلبِ میت اور قلبِ حیّ کے درمیان ہو یعنی اس میں کچھ خصوصیات قلبِ میت کی ہوں اور کچھ قلبِ حیّ کی تو اس قلبِ مریض (بیمار دل) کہتے ہیں۔

نیکی سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے اور اس نور سے دل زندہ ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس برائی یا گناہ سے سیاہی پیدا ہوتی ہے جو دل کی موت کا باعث بنتی ہے۔

مردہ یا مریض دل کو زندہ کرنے کی تدابیر

اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ تَطۡمَئِنُّ قُلُوۡبُہُمۡ بِذِکۡرِ اللّٰہِ ؕ اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ۔
جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرتے ہیں ۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو تسلی حاصل ہوتی ہے۔
(القرآن، سورۃ الرعد، آیت 28)

تفکر و تدبر کے ساتھ تلاوتِ قرآن۔

اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحۡسَنَ الۡحَدِیۡثِ کِتٰبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ ٭ۖ تَقۡشَعِرُّ مِنۡہُ جُلُوۡدُ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ ۚ ثُمَّ تَلِیۡنُ جُلُوۡدُہُمۡ وَ قُلُوۡبُہُمۡ اِلٰی ذِکۡرِ اللّٰہِ۔
اللہ تعالٰی نے بہترین کلام نازل فرمایا ہے جو ایسی کتاب ہے کہ آپس میں ملتی جلتی اور بار بار دہرائی ہوئی آیتوں کی ہے جس سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو اپنے رب کا خوف رکھتے ہیں آخر میں ان کے جسم اور دل اللہ تعالٰی کے ذکر کی طرف نرم ہو جاتے ہیں۔ (القرآن، سورۃ الزمر، آیت 23)

تلاوت و ذکر اذکار کے وقت ادب کے ساتھ بیٹھنا اور اس تصور کے ساتھ بیٹھنا کہ گویا آپ واقعتاً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بیٹھے ہیں
ہمہ وقت باوضو رہنا۔ اور قیام لیل کے کم از کم دو نوافل مکمل انہماک، خشوع و خضوع اور حضوری قلب کے ساتھ ادا کرنا۔
قلتِ طعام؛ کہ پیٹ کا بھرا ہونا دلوں کو مردہ کرتا ہے۔
غافل اور دنیا پرست لوگوں کی صحبت سے بچنا (ضروری معاملات و لین دین کے علاوہ)۔ لغو اور بے مقصد گفتگو بھی دلوں کو مردہ کرتی ہے۔

وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا۔
دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سےغافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے۔
(القرآن، سورۃ الکہف، آیت 28)

بے مقصد، دنیا پرستی اور حرص و ہوس کے کاموں سے بچنا (کسبِ معاش و دیگر ضروری معاملات کے علاوہ)

مردہ دل کی علامات

نیک اعمال کے چھوٹ جانے پر بے چینی، غم یا دکھ نہ ہونا

وَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحۡدَہُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اِذَا ذُکِرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ۔
جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا ( اور کا ) ذکرکیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں۔ (القرآن، سورۃ الزمر، آیت 45)

گناہ یا برے اعمال کرنے پر ندامت یا شرمندگی نہ ہونا

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمۡ۔
یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کر دی ہے اور وہ اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں۔ (القرآن، سورۃ محمد، آیت 16)

غافلین (دنیا پرست لوگوں) کے ساتھ دوستی و صحبت کی رغبت ہونا

وَ لَا تُطِعۡ مَنۡ اَغۡفَلۡنَا قَلۡبَہٗ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ وَ کَانَ اَمۡرُہٗ فُرُطًا۔
دیکھ اس کا کہنا نہ ماننا جس کے دل کو ہم نے اپنے ذکر سےغافل کر دیا ہے اور جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہے اور جس کا کام حد سے گزر چکا ہے۔
(القرآن، سورۃ الکہف، آیت 28)

زندہ دل کی علامات

وَ مَنۡ یُّعَظِّمۡ شَعَآئِرَ اللّٰہِ فَاِنَّہَا مِنۡ تَقۡوَی الۡقُلُوۡبِ۔
اللہ کی نشانیوں کی جو عزت و حرمت کرے اس کے دل کی پرہیزگاری کی وجہ سے یہ ہے۔
(القرآن، سورۃ الحج، آیت 32)

دنیوی خواہشات و شہوات سے دل کا بے رغبت و بے نیاز ہونا

وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الۡاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الۡکُفۡرَ وَ الۡفُسُوۡقَ وَ الۡعِصۡیَانَ۔
لیکن اللہ تعالٰی نے ایمان کو تمہارے لئے محبوب بنادیا ہے اور تمہارے دلوں میں زینت دے رکھی ہے اور کفر کو اور گناہ کو اور نافرمانی کو تمہاری نگاہوں میں ناپسندیدہ بنا دیا ہے۔ (القرآن، سورۃ الحجرات، آیت 7)

اللہ کے ذکر، تلاوت، اور طاعات میں دل کو فرحت و رغبت محسوس ہونا۔

الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ الصّٰبِرِیۡنَ عَلٰی مَاۤ اَصَابَہُمۡ وَ الۡمُقِیۡمِی الصَّلٰوۃِ ۙ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ۔
وہ لوگ کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل تھرا جاتے ہیں ، انہیں جو برائی پہنچے اس پر صبر کرتے ہیں ، نماز قائم کرنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ اس میں سے بھی دیتے رہتے ہیں۔
(القرآن، سورۃ الحج، آیت 35)

اولیا و صالحین کی سنگت و صحبت کی چاہت و رغبت ہونا۔ (خطاب اور کتاب بھی صحبت کی ایک شکل ہے)

وَ اصۡبِرۡ نَفۡسَکَ مَعَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَدٰوۃِ وَ الۡعَشِیِّ یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ وَ لَا تَعۡدُ عَیۡنٰکَ عَنۡہُمۡ ۚ تُرِیۡدُ زِیۡنَۃَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۚ
اور اپنے آپ کو انہیں کے ساتھ رکھا کر جو اپنے پروردگار کو صبح شام پکارتے ہیں اور اسی کے چہرے کے ارادے رکھتے ہیں ( رضا مندی چاہتے ہیں ) ، خبردار! تیری نگاہیں ان سے نہ ہٹنے پائیں کہ دنیاوی زندگی کے ٹھاٹھ کے ارادے میں لگ جا۔
(القرآن، سورۃ الکہف، آیت 28)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمارے حال پہ رحم فرمائے اور ہمارے دلوں کی بیماریوں کو دور کر کے طیب و طاہر کر دے۔ ہمارے دل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے قابل ہو جائیں۔ آمین

رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَ ہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ۔
اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما ، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے۔
(القرآن، سورۃ آلِ عمران، آیت 8)

رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ۔
اے ہمارے پروردگار ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ایمانداروں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ ( اور دشمنی ) نہ ڈال اے ہمارے رب بیشک تو شفقت و مہربانی کرنے والا ہے۔ ( القرآن، سورۃ الحشر، آیت 10)

Leave a Comment

Your email address will not be published.