راحتِ جاں ہوا کرتے تھے وہ کبھی ۔ غزل

راحتِ جاں ہوا کرتے تھے وہ کبھی
اب ستاتے جلاتے نکل جاتے ہیں

توڑ دیں گے تری پختہ دیواروں کو
ہم لیے فیصلہ جو اٹل جاتے ہیں

باغِ دنیا کے کانٹوں سے بچتے ہوئے
نرمئیِ پھول کو بھی کچل جاتے ہیں

(جنید حسَن)

Leave a Comment

Your email address will not be published.