محبت بیج کی طرح ہوتی ہے؟

محبت بیج کی طرح ہوتی ہے؟ جمعۃ المبارک 01 ربیع الثانی 1444ھ بمطابق 28 اکتوبر 2022

کچھ اہلِ لغت کے نزدیک لفظِ محبت الحَبُّ وَالْحَبَّۃُ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں دانہ یا بیج۔ (رسالہ قشیریہ، امام ابو القاسم القشیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

جیسے قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰہَ فَالِقُ الۡحَبِّ وَ النَّوٰی۔ بے شک اللہ ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر (ان سے درخت اگاتا ہے۔)

تو محبت گویا بیج کی طرح ہوتی ہے۔ اب بیج کی خصوصیات میں غور و خوض کرنے سے حقیقی محبت کا معنیٰ اور مفہوم بڑا واضح ہو جاتا ہے۔

بیج کی خصوصیات اور محبتِ کاملہ:

بیج کی یہ خوبی ہے کہ وہ جس درخت کا بیج ہوتا ہے اس درخت کی ساری خوبیوں، اور صفات کا نچوڑ اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان جس سے محبت کرتا ہے اس محبوب کی صفات اور خصوصیات بھی اس محبت کے بیج میں موجود ہوتی ہیں۔ اب جیسے جیسے یہ محبت کا بیج پروان چڑھتا ہے ویسے ویسے محبوب کی صفات محب میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ جس قدر محبوب کی صفات محب میں ظاہر ہوتی ہیں محبت اسی قدر مضبوط اور کامل ہوتی ہے۔ محبت کا بیج جیسے جیسے پرورش پاتا ہے ویسے ویسے محب کی اپنی صفات کا رنگ اترتا جاتا ہے اور محبوب کی صفات کا رنگ چڑھتا جاتا ہے۔

حضرت جنید بغدادی رح سے کسی نے پوچھا کہ محبت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا محب (محبت کرنے والے) میں محبوب کی صفات کا آجانا، یہ محبت ہے۔ (رسالہ قشیریہ، امام ابو القاسم القشیری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)

اگر کوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ان صفات اور خصوصیات کو بھی اپنائے جن کا حکم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اگر رحمت و شفقت فرمانے والی ہے تو انسان کو بھی سراپا رحمت و شفقت ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اگر معاف فرمانے والے ہیں تو انسان کو بھی درگزر کرتے ہوئے معاف کرنے والا ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات عدل و انصاف فرمانے والی ہے تو ہمارے معاملات میں بھی عدل و انصاف نظر آنا چاہیے۔ محبوب اگر وعدہ خلافی نہیں کرتا تو محب کو بھی یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ وعدہ خلافی کرے۔ الغرض محبت کامل یہ ہے محب کی صفات کو دیکھو تو محبوب کی صفات کی جھلک نظر آئے۔ اور محب کے اعمال و افعال کو دیکھو تو محبوب کے افعال کی جھلک نظر آئے۔

وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ،

‏اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کر کے مجھ سے اتنا نزدیک ہوجاتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6502)

تو محبت جب کامل ہو جاتی ہے تو زبان محب کی ہوتی ہے اور کلام محبوب کی طرف سے ہوتا ہے۔ کلام محب کا ہوتا ہے مگر تاثیر محبوب سے مل رہی ہوتی ہے۔ ہاتھ محب کے ہوتے ہیں، عمل محبوب کی طرف سے ہوتے ہیں۔ عمل محب کا ہوتا ہے مگر طاقت اور قوت محبوب کی طرف سے مل رہی ہوتی ہے۔

غزوہ بدر میں کنکریاں پھینکنے والی ذات مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی مگر اس کے پیچھے طاقت اور قوت خدا کی تھی۔

قرآن پاک میں اس واقعہ کا اللہ رب العزت نے ذکر فرمایا ہے؛

فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡهُمۡ وَلٰـكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمۡۖ وَمَا رَمَيۡتَ اِذۡ رَمَيۡتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى‌ ۚ وَلِيُبۡلِىَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ مِنۡهُ بَلَاۤءً حَسَنًا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيۡعٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:(اے سپاہیانِ لشکرِ اسلام!) ان کافروں کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کر دیا، اور (اے حبیبِ محتشم!) جب آپ نے (ان پر سنگ ریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے، اور یہ (اس لئے) کہ وہ اہلِ ایمان کو اپنی طرف سے اچھے انعامات سے نوازے، بیشک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

القرآن – (سورۃ نمبر 8 الأنفال، آیت نمبر 17)

محبت کے بیج کی پرورش میں رکاوٹ

بیج کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتا ہے ہے کہ زمین کو اچھی طرح سے تیار کیا جائے۔ جڑی بوٹیوں اور خاردار جھاڑیوں سے زمین کو پاک کیا جاتا ہے تاکہ بیج کو پروان چڑھنے میں کوئی دقت نہ ہو۔ اسی طرح محبت کا بیج جس دل کی سرزمین میں اگتا ہے اس دل کی سرزمین کو بھی دل کی بیماریوں، جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں سے پاک کرنا پڑتا ہے تاکہ محبت کا بیج با آسانی نشوونما پا سکے۔ جو چیزیں محبت کے بیج کو پروان چڑھانے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہیں وہ دل کی زمین کی جڑی بوٹیاں ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہر وہ چیز جو محبوب کی یاد سے غافل کر دے وہ دل کی سرزمین میں ایک جڑی بوٹی اور خاردار جھاڑی کی طرح ہے۔ جیسے محبوب کے غیر کی محبت، دنیا کی محبت، مال و دولت کی ہوس، اقتدار اور حاکمیت کی طمع، نفسانی خواہشات کی غلامی، گناہوں کی لذت، حسد، بغض، کینہ، عداوت، غصہ، انا پرستی، غرور و تکبر، وغیرہ۔ یہ وہ ساری جڑی بوٹیاں ہیں جن کی موجودگی میں محبت کا بیج پروان نہیں چڑھ سکتا۔

حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَمْرٍو الْقُرَشِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي حَازِمٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا أَنَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللَّهُ،‏‏‏‏ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّكَ اللَّهُ،‏‏‏‏ وَازْهَدْ فِيمَا فِي أَيْدِي النَّاسِ يُحِبُّوكَ.

ترجمہ:سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شخص نے آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے میں کروں تو اللہ تعالیٰ بھی مجھ سے محبت کرے، اور لوگ بھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دنیا سے بےرغبتی رکھو، اللہ تم کو محبوب رکھے گا، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بےنیاز ہوجاؤ، تو لوگ تم سے محبت کریں گے ۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر: 4102)

اگر کوئی چاہتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حقیقی محبت کے بیج کو پروان چڑھا کر ایک نفع بخش تناور درخت بنائے تو اسے چاہیے کہ اپنے دل کی سرزمین کو دنیا کی محبت اور اس جیسی دوسری جڑی بوٹیوں سے پاک کر لے۔

حضرت شبلی رح فرماتے ہیں کہ محبت کو محبت اس لیے کہتے ہیں کہ یہ محبوب کے علاوہ دل سے ہر چیز کو مٹا دیتی ہے۔ (رسالہ قشیریہ، امام ابو القاسم القشیری رح)

حضرت شبلی رح فرماتے ہیں کہ محبت دل میں بسی ہوئی آگ کی طرح ہوتی ہے جو محبوب کی مراد کے علاوہ ہر چیز کو جلا دیتی ہے۔ (رسالہ قشیریہ، امام ابو القاسم القشیری رح)

اے چارہ گرِ شوق کوئی ایسی دوا دے جو دل سے ہر اک غیر کی چاہت کو مٹا دے (ڈاکٹر طاہر القادری)

Leave a Comment

Your email address will not be published.