Names vs Titles – نام اور القاب

وَلَا تَنَابَزُوا بِاالْاَلْقَابِ
اور نہ ایک دوسرے کو پکارو (برے) القاب سے
(القرآن، سورۃ الحجرات 49، آیت 11)

یہاں مترجمین نے القاب سے مراد برے القاب لی ہے۔ اسی لیے اسے بریکٹ میں لکھا ہے۔

کسی کو برے القاب سے پکارنا تو کسی طور بھی جائز نہیں ہے لیکن میرے نزدیک بعض اوقات اچھے القابات سے بھی گریز کرنا چاہیے (اگر کوئی شخص خود اپنے لیے وہ لقب استعمال نہ کرتا ہو)۔ کیونکہ جب آپ کسی شخص کے نام کو کسی خاص لقب سے جوڑ دیتے ہیں تو ایسے لگتا ہے جیسے وہ کسی مخصوص طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اور اس کی سوچ اور افکار صرف کسی خاص طبقے کے لوگوں کیلئے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر کوئی شخص نماز پڑھنا شروع کر دے یا تھوڑی اللہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کرنا شروع کر دے ہم اسے فوراً مولوی، مولانا، حضرت علامہ مولانا فلاں فلاں جیسے القابات اس کے نام کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے اس کی بات اور اعمال کو ہم مخصوص طبقے یا گروہ کی بات سمجھنا شروع کر دیتے ہیں اور یہ سوچ کر اگنور کر دیتے ہیں کہ اس کیلیے دین پر چلنا آسان ہے کیونکہ یہ ایک خاص طبقے یا گروہ کی نمائندگی کرتا ہے اور ہم سے مختلف ہے۔

اس کے برعکس اگر آپ اسے کوئی لقب دیے بغیر ایک عام انسان ہی سمجھیں تو اس کی بات اور عمل کو اپنانا ہمارے لیے یہ سوچ کر آسان ہو جائے گا کہ یہ بھی ہماری طرح ایک عام انسان ہے اور اگر یہ کر سکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کر سکتے؟

Dale Carnegie said, “A person’s name is to that person, the sweetest, most important sound in any language.”
ڈیل کارنیگی کہتے ہیں کہ “انسان کو جو سب سے خوبصورت آواز لگتی ہے وہ اسکا اپنا نام ہے”. تو اگر آپ کسی کو اچھا لگنا چاہتے ہیں یا اس کے قریب ہونا چاہتے ہیں تو اسے القابات کے بجائے اس کے نام سے پکاریں۔

ہاں اگر کوئی شخص اپنے لیے کوئی خاص لقب یا خطاب پسند کرتا ہے تو پھر اس کی خوشی کیلئے آپ بھی بول دیں۔ ☺️

ایک لطیفہ مشہور ہے کہ حاجی صاحب حج کر کے آئے تو دکاندار سے کہتے ہیں میرا کھاتا کھولو، دوکاندار بڑا خوش ہوا کہ آج اسے پیسے مل جائیں گے۔ حاجی صاحب کہتے ہیں “پتر جتھے میرا نام لکھیا اودھے نال حاجی لکھ دے”

حاصل کلام یہ کہ میرے نزدیک انسان کو اپنے نام کو القابات و خطابات کی چاہت سے الگ رکھنا چاہیے۔ اگر آپ میں کچھ ہے تو القابات و خطابات کے بغیر بھی لوگ آپکو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھیں گے۔

نوٹ: یہاں ایک خاص قسم کے طبقاتی یا گروہی القابات سے بچنے کی بات ہو رہی ہے یہ نہ ہو کہ امی، ابو، ٹیچرز کو اور ایسے باقی رشتوں کو بھی ان کے ناموں سے پکارنا شروع ہو جائیں۔

مزید یہ کہ اس آیت میں اللہ تعالٰی نے کسی کو چڑانے کی غرض سے القاب سے پکارنے سے منع کیا ہے۔ سب سے بہتر تو یہ ہے آپ کسی بھی شخص کو اس کے نام سے پکاریں یا ایسے القاب سے پکاریں جسے وہ خود اپنے لیے استعمال کرتا ہو یا اپنے لیے پسند کرتا ہو۔

ہم اگر اپنے معاشرے میں دیکھیں تو اکثر لوگ دوسروں کو صرف چڑانے کے لیے مختلف القاب سے پکارتے ہیں۔ مثلاً کئی لوگ نون لیگیوں کو “پٹواری” کہتے ہیں اور تحریک انصاف والوں کو “یوتھیا” وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح مختلف سیاستدانوں کو ایسے ایسے القابات سے پکارتے ہیں کہ جن کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔ کیا یہ اس شخص کی دل آزاری کے ساتھ ساتھ، اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں ہے؟

پھر یہ تو ہیں برے القاب کئی دفعہ کوئی لقب برا نہ بھی ہو لیکن اگر کوئی شخص اپنے لیے وہ لقب استعمال نہیں کرتا تو بھی ہم جان بوجھ کر اسے اسی لقب سے پکارتے ہیں۔ مثلاً عمران خان صاحب کا پورا نام ہے عمران احمد خان نیازی ہے۔ بظاہر “نیازی” کوئی برا لفظ نہیں ہے لیکن صرف ان کے سپورٹرز کو چڑانے کی خاطر عمران نیازی کہہ کر پکارتے ہیں۔

یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن یہ ہماری اور ہماری آنے والی نسلوں کی تربیت پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیں دوسرے انسانوں کے جذبات اور احساسات کا کتنا خیال ہے.

اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

Leave a Comment

Your email address will not be published.