What is the Purpose of Life مقصد حیات کیا ہے؟

یہ ایک ایسا بنیادی سوال ہے جس کے بارے میں ہر ذی شعور انسان اپنی زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر ضرور سوچتا ہے۔ اس سوال کا جواب جتنا جلدی ہو سکے تلاش کر لینا چاہیے۔ کیونکہ اس سے انسان کی سوچ، فکر، اور ترجیحات کا تعین ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنے حقیقی مقصدِ حیات کا تعین کیے بغیر زندگی گزار دے تو اس کی زندگی کا اختتام شدید پچھتاوے پر ہوتا ہے۔

کچھ لوگ اپنی ساری زندگی ایک افراتفری کے عالم، میں دوسرے لوگوں کی دیکھا دیکھی گزار دیتے ہیں۔ اور انہیں ساری زندگی یہ سمجھ ہی نہیں آتی یا یہ سوچنے کی فرصت ہی نہیں ملتی کہ ان کی زندگی کا حقیقی مقصد کیا تھا؟ شاعر نے لکھا ہے؛

پرچۂِ زیست تھا اس قدر گراں مولا
وقت سارا سمجھتے سوال میں گزرا
(جنید حسن)

اس کے برعکس کچھ لوگ سوچ سمجھ کر اپنی زندگی کے لیے غلط مقصد متعین کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے مقصد کو حاصل کر لینے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتے اور اسی پچھتاوے میں رہتے ہیں کہ جس مقصد کے حصول کے لیے اپنی ساری زندگی لگا دی وہ تو حقیقی مقصدِ حیات تھا ہی نہیں۔

مثال کے طور پر کچھ لوگ عورت اور اولاد کی محبت، مال و دولت کی ہوس، جاہ و منصب کی چاہت وغیرہ کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اور جب ان میں سے کوئی خواہش پوری نہیں ہوتی تو اس کو حاصل کرنے کے لیے جائز و ناجائز، حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ خواہشات تو محض اللہ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہیں۔ جیسا کہ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 14 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛

“لوگوں کے لئے ان خواہشات کی محبت (خوب) آراستہ کر دی گئی ہے (جن میں) عورتیں اور اولاد اور سونے اور چاندی کے جمع کئے ہوئے خزانے اور نشان کئے ہوئے خوبصورت گھوڑے اور مویشی اور کھیتی (شامل ہیں)، یہ (سب) دنیوی زندگی کا سامان ہے، اور اﷲ کے پاس بہتر ٹھکانا ہے”

یہ خواہشات تو محض انسان کی آزمائش کے لیے تھیں۔ اللہ تعالیٰ کسی کو یہ نعمتیں دے کر آزماتا ہے اور کسی کو ان سے محروم رکھ کر آزماتا ہے۔ انسان کی آزمائش یہ ہوتی ہے کہ جب اسے کسی خواہش سے محروم رکھ کر آزمایا جائے تو کیا وہ اس کے حاصل کرنے کے لیے حرام اور ناجائز ذرائع استعمال کرتا ہے یا اسے خدا کی رضا سمجھ کر اس پہ صبر کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 155 میں فرماتے ہیں؛

“اور ہم ضرور بالضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور (اے حبیب!) آپ (ان) صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں”

جو لوگ آزمائشوں پہ صبر کر لیتے ہیں وہی اپنے حقیقی مقصدِ حیات کے حصول میں کامیاب ہوتے ہیں اور جو لوگ آزمائشوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے حلال و حرام کا فرق بھول جاتے ہیں وہ کامیاب ہو کر بھی کبھی مطمئن نہیں ہوتے اور ساری عمر پچھتاوے میں گزارتے ہیں۔

اب یہ بات واضح ہو گئی کہ مال و دولت کی فراوانی، بنیک بیلنس، جائیدادیں اور جاگیریں بنانا، ایک دوسرے پر فخر و برتری، کسی عہدے اور منصب کی چاہت، وغیرہ انسان کی زندگی کا حقیقی مقصد نہیں ہو سکتے۔ پھر آخر حقیقی مقصدِ حیات کیا ہے؟ جس کے حصول کے بعد انسان پر سکون اور مطمئن ہو جائے اور زندگی کے اختتام پر اسے کسی قسم کا پچھتاوا نہ ہو۔

سورۃ الانعام 6، آیت 162 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں؛

“فرما دیجئے کہ بیشک میری نماز اور میرا حج اور قربانی (سمیت سب بندگی) اور میری زندگی اور میری موت اﷲ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے”

انسان کی زندگی کا حقیقی مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل کرنا ہے۔ اگر اس نے اپنے اعمال سے اللہ تعالیٰ کو راضی کر لیا تو وہ حقیقی معنوں میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی حاصل نہیں کر سکا تو وہ دنیا کی جو چیز حاصل کر لے اسے کبھی حقیقی سکون اور راحت نہیں ملے گی۔

سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 185 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛

“پس جو کوئی دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا وہ واقعۃً کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی دھوکے کے مال کے سوا کچھ بھی نہیں.”

جس انسان کو اپنے حقیقی مقصدِ حیات کا ادراک ہو جاتا ہے وہ نعمتوں پر شکر گزار ہوتا ہے اور آزمائشوں کو اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کر لیتا ہے۔ ایسا انسان کبھی دوسرے انسانوں سے شکوہ و شکایت نہیں کرتا کیونکہ وہ یہ جانتا ہے کہ انسان تو محض وسیلہ بنتے ہیں اصل میں تو وہ اپنے رب کی طرف سے آزمایا جا رہا ہے۔ وہ اپنی زندگی عارضی دنیوی خواہشات کے حصول کے بجائے ان کاموں میں صرف کرتا ہے جو اللہ کی رضا و خوشنودی کا باعث بنیں۔ سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 207 میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں؛

“اور (اس کے برعکس) لوگوں میں کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے جو اﷲ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بھی بیچ ڈالتا ہے، اور اﷲ بندوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہے”۔

جب انسان اللہ کی رضا کے لیے اس کے بتائے ہوئے احکامات کے مطابق زندگی گزارتا ہے تب اسے حقیقی راحت و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے حقیقی مقصدِ حیات کی طرف گامزن ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس کی زندگی میں سب کچھ ہونے کے باوجود بھی اطمینان اور سکون نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اسے اپنی سمت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بے چینی، اضطراب اور بے سکونی اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکار ہوتی ہے کہ اے میرے بندے کس چیز نے تجھے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ میری طرف پلٹ آ!

سورۃ الانفطار کی ایت نمبر 6 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛

“اے انسان! تجھے کس چیز نے اپنے ربِ کریم کے بارے میں دھوکے میں ڈال دیا”

اور سورۃ الرعد، آیت نمبر 28 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں؛

“جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اﷲ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اﷲ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے”

شاعر نے لکھا ہے؛

ہن تے آ جا رب دے ولے
لا نہ بہتی دیری بیبا
(جنید حسن)

اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی مقصدِ حیات پہچاننے اور اسے حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Leave a Comment

Your email address will not be published.