محبتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم تکمیلِ ایمان کی شرط ہے۔

اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ۔
یہ نبیِ ( مکرّم ) مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ قریب اور حق دار ہیں۔
القرآن، سورۃ الاحزاب 33، آیت 6

یَا صَاحِبَ الْجَمَالِ وَ یَا سَیِّدَ الْبَشَر
مِنْ وَّجْہِکَ الْمُنِیْرِ لَقَدْ نُوِّرَ الْقَمَر
لَا یُمْکِنُ الثَّنَائُ کَمَا کَانَ حَقُّہٗ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر (شیخ سعدی)

ہر ابتدا سے پہلے ہر انتہا کے بعد
ذات نبی بلند ہے ذات خدا کے بعد (نا معلوم)

دنیا میں احترام کے قابل ہیں جتنے لوگ
میں سب کو مانتا ہوں مگر مصطفیٰ کے بعد (قتیل شفائی )

جو آیت مبارکہ تلاوت کی ہے یہ سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 6 ہے اس میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا،

اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ۔
یہ نبیِ ( مکرّم ) مومنوں کے ساتھ اُن کی جانوں سے زیادہ اولٰی ہیں۔
القرآن، سورۃ الاحزاب 33، آیت 6

اس آیتِ مبارکہ میں جو لفظِ اولٰی ہے اس کے دو معانی مفسرین کرام نے بیان فرمائے ہیں۔

امام راغب اصفہانی اپنی کتاب مفردات القرآن میں فرماتے ہیں کہ اولٰی کا ایک معنیٰ ہے ‘زیادہ قریب’ ہونا۔ جیسے قرآن میں اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ یعنی ابراہیم علیہ السلام سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں۔

اگر کوئی ہم سے سوال کرے کہ آپ کا سب سے قریبی کون ہے؟ تو کوئی کہے گا میرے والدین میرے سب سے قریبی ہیں، کوئی کہے گا میرے بیوی بچے سب سے قریبی ہیں، کوئی کہے گا فلاں رشتہ دار میرا سب سے قریبی ہے، کوئی کہے گا میرا فلاں دوست میرا سب سے قریبی ہے۔

اچھا کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میری کسی سے نہیں بنتی میں صرف اپنی بات سنتا ہوں اور مانتا ہوں۔ میری اپنی ذات ہی میرے لیے سب سے قریبی ہے۔۔۔

مگر قرآن نے یہاں ایک ضابطہ اور اصول دیا ہے فرمایا النبی اولیٰ با المومنین من انفسھم، اے بندہ مومن سن

یہ سارے رشتے اور تعلقات درست سہی، (یہ سارے تعلقات جائز ہیں)، مگر جو ذات ان سارے رشتوں سے، ان سارے تعلقات سے، حتی کہ تیری اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہے وہ محمد مصطفٰی کی ذات ہے۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

حافظ عبد السلام رح اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ؛

یہاں اگر اولٰی کا معنیٰ اَقرَبُ کیا جائے تو مطلب یہ ہے کہ کسی قرابت دار کا قرب آدمی کے ساتھ اتنا نہیں جتنا قرب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایمان والوں کے ساتھ ہے۔

اب آ جائیں اولٰی کے دوسرے معنیٰ کی طرف ۔۔۔

امام راغب اصفہانی اپنی کتاب مفردات القرآن میں فرماتے ہیں کہ اولٰی کا ایک معنیٰ حق دار ہونا ہے۔ فلان اولٰی بکذا یعنی فلاں اس کا زیادہ حق دار ہے۔ جس طرح قرآن میں “النبی اولیٰ با المومنین من انفسھم” یعنی یہ پیغمبر مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ جان سے بھی زیادہ حق رکھنے کا کیا مطلب ہے؟

سید ابوالاعلیٰ مودودی رح اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں کہ:

نبی ﷺ کا بھی مسلمانوں پر یہ حق ہے کہ وہ آپ کو اپنے ماں باپ اور اولاد اور اپنی جان سے بڑھ کر عزیز رکھیں ، دنیا کی ہر چیز سے زیادہ آپ ﷺ سے محبت رکھیں (تفسیر تفہیم القرآن، سید ابو الاعلیٰ مودودی رح)

تو پتا چلا کہ جان سے بھی زیادہ حق رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر رشتے اور ہر تعلق سے بڑھ کر حتی کہ اپنی جان سے بھی بڑھ کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی جائے۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ۔
بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں۔
(صحیح البخاری 14)

فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ إِلَّا مِنْ نَفْسِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : فَإِنَّهُ الْآنَ وَاللَّهِ لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الْآنَ يَا عُمَرُ .

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں، سوا میری اپنی جان کے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ( ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ) جب تک میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: پھر واللہ! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، عمر! اب تیرا ایمان پورا ہوا۔
(صحیح البخاری 6632)

صرف رشتے اور تعلقات تک نہیں بلکہ مال و دولت، تجارت و کاروبار، اور محلات و مکانات سے بھی بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی جائے۔

قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُ ۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ.

( اے نبی مکرم! ) آپ فرما دیں: اگر تمہارے باپ ( دادا ) اور تمہارے بیٹے ( بیٹیاں ) اور تمہارے بھائی ( بہنیں ) اور تمہاری بیویاں اور تمہارے ( دیگر ) رشتہ دار اور تمہارے اموال جو تم نے ( محنت سے ) کمائے اور تجارت و کاروبار جس کے نقصان سے تم ڈرتے رہتے ہو اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو ، تمہارے نزدیک اللہ اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکمِ ( عذاب ) لے آئے ، اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں فرماتا.
سورۃ التوبہ 24

حافظ عبد السلام رح اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ؛
اپنی جان سے بھی زیادہ حق رکھنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اپنی ذات سے بھی بڑھ کر آپ کا حکم مانا جائے۔ ایک طرف دنیا جہان کے کسی بھی شخص حتی کہ اپنی ذات کا تقاضا ہو، دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہو تو آپ کے فرمان کو ترجیح دی جائے۔ (تفسیر القرآن الکریم، حافظ عبد السلام رح)

فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا۔ تیرے رب کی قسم یہ مومن نہ ہوں گے جب تک کہ اپنے آپس کے اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں اور تیرے تمام تر احکامات اور فیصلوں کو بدل و جان قبول نہ کر لیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ سورة الأحزاب آية 6 ، فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر مومن کا میں دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ قریب ہوں۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم‏ ”نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) مومنوں سے ان کی جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔“ اس لیے جو مومن بھی انتقال کر جائے اور مال چھوڑ جائے تو چاہئے کہ ورثاء اس کے مالک ہوں۔ وہ جو بھی ہوں اور جو شخص قرض چھوڑ جائے یا اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آ جائیں کہ ان کا ولی میں ہوں۔
(صحیح البخاری 2399)

تو خاصہ کلام یہ ہوا کہ اے انسان تیری زندگی میں کوئی تعلق ایسا نہ ہو جو تعلق خدا و مصطفیٰ سے بڑھ کر ہو۔
کوئی قربت ایسی نہ ہو جو قربت خدا و مصطفیٰ سے بڑھ کر ہو۔
کوئی نسبت ایسی نہ ہو جو نسبت خدا و مصطفیٰ سے بڑھ کر ہو۔ اور
کوئی محبت ایسی نہ ہو جو محبت خدا و مصطفیٰ سے بڑھ کر ہو۔

محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے (اسماعیل میرٹھی)

Leave a Comment

Your email address will not be published.